ابنا: ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق کل کے سانحہ کے خلاف جہاں آج کوئٹہ سمیت پاکستان کےشہروں کراچی،حیدر آباد،لاھور،اسکردو،گلگت اور دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ریلیاں نکالی گیئں اور دھرنے دئے جا رہے ھیں وہیں کوئٹہ میں شٹرڈاون ہڑتال ہے اورفضا سوگوار،کہیں لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ھیں تو کہیں اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر نوحہ کناں ھیں۔ کل کے دلخراش واقعہ میں شھید ہونے والوں میں50 سے زائد خواتین،لڑکیاں اور چھوٹے بچے بھی ھیں۔ کوئٹہ کے شعیہ مسلمان آج ایسے میں 109 شھداء کے پاک و مطھرجسدوں کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ھیں کہ جب آج سے چالیس روز قبل کوئٹہ کے علمدار روڈ کے سانحہ میں شھید ہونے والے 120 شعیہ مسلمانوں کا چہلم منایا جا رہا ہے۔کل کے اس دھشتگردانہ واقعہ کی اس ملک کی سیاسی اور مذھبی جماعتوں نے مزمت کی جبکہ مجلس وحدت مسلمین،تحفظ عزاداری کونسل، اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نےواقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے سات روز تک عام سوگ منانے اور آج شٹر ڈاون ہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں کی جانب سے یوم سوگ کے اعلان پر آج ان دونوں صوبوں میں قومی پرچم سر نگوں ہےواضح رہے کہ کوئٹہ کے علاقے کیرانی بازار میں کل شام زور دار دھماکا ہوا جس میں اب تک 109افرادشھید ہوچکے ہیں جبکہ شھید ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دھماکے میں 200کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دھماکے میں کئی گاڑیوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے سے 4 مارکیٹیں مکمل طور پر تباہ اور ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دب جانے کا خدشہ ہے اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز تقریباً پورے شہر میں سنی گئیدھماکے میں ایک ہزار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جو ٹریکٹر ٹرالی پر پانی کی ٹنکی میں رکھا گیا تھاکوئٹہ میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد شعیہ مسلمانوں کے خلاف یہ سب سے بڑی دھشتگردانہ کاروائی ہے۔
16 فروری 2013 - 20:30
News ID: 391821
کوئٹہ کے علاقے کیرانی میں کل ہونے والے زور دار دھماکے میں شھداء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک 109افراد شھیداور 200کے قریب زخمی ہوئےجن میں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔